واشنگٹن،4؍فروری(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا)امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نامزد کردہ آرمی سیکرٹری نے اپنا نام اس بنا پر واپس لے لیا کہ وہ اپنے خاندانی کاروبار کی وجہ سے محکمہ دفاع کے قواعدوضوابط کے تناظر میں شاید توثیق کے عمل میں کامیاب نا ہو سکیں۔ملٹری ٹائمز نے وینسٹ وائلا کے ایک بیان کا حوالے دیتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی نامزدگی کی دل سے قدرکرتے ہیں تاہم وہ توثیق کے عمل میں کامیاب نہیں ہو سکیں گے۔ وزیر دفاع جیمز میٹس نے کہا کہ انہیں مایوسی ہوئی ہے تاہم وہ اس بات کو سمجھتے ہیں اور وہ وائلا کے فیصلے کی قدر کرتے ہیں۔محکمہ دفاع کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیر دفاع جلد ہی صدر کو (آرمی سیکرٹری نامز کرنے کے لیے ) ایک دوسرا نام تجویز کریں گے۔وائلا امریکہ کی فوج میں خدمات سرانجام دے چکے ہیں اور وہ ایک تجارتی کمپنی کے بانی ہیں۔ وہ نیویارک مرکینٹائل ایکسچینج (تجارتی لین دین کی کمپنی) کے سابق چیئرمین ہیں اور الیکٹرونک ٹڑیڈنگ میں ان کا کردار اہم ہے۔ اس کے علاوہ وہ کئی دیگر کمپینیوں کے بھی مالک ہیں۔
وائلا نے ویسٹ پوائنٹ کی امریکی فوجی اکیڈمی سے 1977 میں بطور رینجرز انفنٹری آفسیر کے اپنی تربیت مکمل کی اور 101 ویں ائیر بورن ڈویڑن میں خدمات سراں جام دیں۔ 14 سال قبل انہوں نے ویسٹ پوائنٹ میں انسداد دہشت گردی کے مرکز کو قائم کیا اور اس کے لیے مالی معاونت بھی فراہم کی۔